اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نیورمبرگ عدالت (Nuremberg trials) کے چیف پراسیکیوٹر بنجامین ۔بی۔فرنز نے اپنی ایک تحریر میں عراق میں ٹرمپ کے حکم سے جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک غیر اخلاقی فعل قرار دیا ہے۔
عصر ایران نیوز ایجنسی کے مطابق اس امریکی سوسالہ وکیل کی تحریر جو نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئی حسب ذیل ہے:
" اب، میں اپنی زندگی کے 100 ویں سال میں، خاموشی اختیار نہیں کر سکتا۔ میں جنوری 1921 میں ایک غریب تارکین وطن کی حیثیت سے امریکہ آیا تھا۔ میں ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے امریکہ کی نسبت اپنے قرض کو ان عطایا کے بدلے میں جو مجھے ملے ادا کرنا چاہتا ہوں۔
میں نے جنگی محاذوں پر بطور امریکی سپاہی دوسری جنگ عظیم میں حصہ لیا تھا، اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ جنگ کے بعد فوجداری عدالت نیورمبرگ میں چیف پراسیکیوٹر کی حیثیت سے ان نازی سرغنوں کو عدالت کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کروں جنہوں نے لاکھوں بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام کیا تھا۔
امریکی حکومت نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر اس ملک کے ایک فوجی کمانڈر کو قتل کر دیا ہے جس ملک سے ہم جنگ کی حالت میں نہیں ہیں۔
میں ہارورڈ یونیورسٹی کے شعبہ وکالت سے فارغ التحصیل ہونے کی حیثیت سے امریکی حکومت کے اس اقدام کو غیر اخلاقی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتا ہوں۔
لوگوں کو حقیقت جاننے کا حق ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر، بین الاقوامی فوجداری عدالت اور بین الاقوامی عدالت انصاف، سب کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ اس سائبری دنیا میں ، جوان جہاں جہاں بھی ہیں، موت کے خطرہ میں ہیں۔ مگر یہ کہ ہم ان لوگوں کے دل و دماغ کو تبدیل کر سکیں جو جنگ کو قانون پر ترجیح دیتے ہیں۔ "
خیال رہے کہ اس سے قبل، امریکی ویب سائٹ ’بزنس انسائڈر‘ نے امریکی ذارئع اور ماہرین سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر ایران بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا امریکہ کے خلاف مقدمہ دائر کرتا ہے تو یقینا یہ عدالت امریکی حکومت کے خلاف حکم جاری کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲